Md shamsi rizvi مراسلہ: 12 اگست 2017 Report Share مراسلہ: 12 اگست 2017 السلام علیکم ورحمۃ اللہ حضور اسکا جواب چاہیئے امید کہ ضرور توجہ فرمائںگے "چند سوالات جو جواب چاہتے ہیں " بے خودی میں سجدہ در یا طواف جو کیا اچھا کیا پھر تجھ کو کیا (سیدی اعلی حضرت قدس سرہ) سنگ در جاناں پہ کرتا ہوں جبیں سائی سجدہ نہ سمجھ نجدی سر دیتا ہوں نذرانہ (حضور مفتی اعظم ہند قدس سرہ) اہل علم و دانش اور ارباب فقہ و افتا سے مندرجہ بالا دو اشعار کی تشریح مطلوب ہے. ◀کلام رضا میں بے خودی کا مفہوم کیا ہے؟ اور کسی شخص کے بے خود ہونے کا فیصلہ کس معیار پر کیا جائے گا ؟ بے خودی اگر انسان کی باطنی کیفیت سے عبارت ہے تو کسی تیسرے شخص کو یہ اختیار کیونکر دیا جاسکتا ہے کہ جس کی بنیاد پر وہ برملا یہ کہہ دے کہ فلاں مکار ہے فلاں مخلص ہے؟ کیا باطنی احوال وکیفیات کا علم اللہ کےسوا کسی کو ہے؟؟ افلا شققت عن قلبہ؟ ◀ 'سجدہ در یا طواف' کی وہ کون سی شکل ہے جب یہ کہنا درست ہو جائے کہ "جو کیا اچھا کیا پھر تجھ کو کیا؟" ◀ سنگ در جاناں پہ جبیں سائی کرنے اور سجدہ کرنے میں کیا فرق ہے، جس کی بنیاد پر دیکھنے والا دونوں میں بآسانی فرق کرسکے؟ اگر کوئی مرید یا شاگرد فرط محبت میں اپنے مرشد کے در پہ جبیں سائی کرنے لگے یا اپنے شیخ کے قدم میں پیشانی رگڑنے لگے تو کیا اسے سجدہ کہہ دیا جائے گا؟ اور کیا اس وقت یہ کہنا روا ہوگا کہ سجدہ نہ سمجھ نجدی سر دیتا ہوں نذرانہ. ◀سجدہ تعظیمی کی حرمت ظنی ہے قطعی؟ اپنے موقف کو دلیل سے واضح کریں ! یہاں یہ واضح کردینا ضروری ہے کہ یہ خلجان ایک طالب علم کے ہیں. لہذا زبان کی شکستگی اور علم کی کمی پر طنز کسنے یا غیر شائستہ لب و لہجہ اپنانے کے بجائے عالمانہ لب و لہجہ میں اس بے مایہ کی تشفی کا ساماں کیا جائے . اللہ اہل حق کا حامی ہو! أبو حسام سید قمر الاسلام کان اللہ لہ copy pasted اقتباس Link to comment Share on other sites More sharing options...
تجویز کردہ جواب
بحث میں حصہ لیں
آپ ابھی پوسٹ کرکے بعد میں رجسٹر ہوسکتے ہیں۔ اگر آپ پہلے سے رجسٹرڈ ہیں تو سائن اِن کریں اور اپنے اکاؤنٹ سے پوسٹ کریں۔
نوٹ: آپ کی پوسٹ ناظم کی اجازت کے بعد نظر آئے گی۔