Jump to content

Sunni Haideri

اراکین
  • کل پوسٹس

    28
  • تاریخِ رجسٹریشن

  • آخری تشریف آوری

  • جیتے ہوئے دن

    7

سب کچھ Sunni Haideri نے پوسٹ کیا

  1. ⛲امتیازی شان کنزالایمان⛲ اعلیحضرت، عظیم البرکت، عظیم المرتبت، ولی نعمت، سیدی، مرشدی، امام اھلسنت، مجدد دین و ملت،الحاج،الحافظ، القاری، الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن۔ ✍️ کا ترجمہ کنزالایمان۔ خزینہ القرآن،نرالی شان، سب سے الگ پہچان، جس میں رکھا ادب کا دیان، اس پوسٹ کو پڑھ کے آپ بھی ہوجائیں حیران و پریشان۔پھر آپ کو چلے گا پتہ کیا ہے اعلی حضرتؒ کی شان۔ ⛲تراجم کا تقابل المختصر⛲ الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 🗡️ضرب حیدری🗡️ فیض رضا جاری رہے گا 💪💪💪 ✍️اس آیت کے مختلف تراجم پیش کریں گے۔ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہوگا۔ ایمان داری سے دیکھیں پڑھیں سمجھیں۔ ✍️۔ آخر میں امام اھلسنت کا ترجمہ کو رکھا گیا ہے۔ تاکہ سمجھنے آسانی ہو۔ اس پوسٹ میں تین آیات کو کے تراجم موازنہ ہوگا باقی کسی دوسری پوسٹ میں اگر موقع لا تو۔ إن شاءالله۔۔ ✍️یہ پوسٹ ماہ رضا کی نسبت سے لکھ رہا ہوں۔ ❤️❤️ دلیل آیت نمبر 1❤️❤️ اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ وَ لَمَّا یَعۡلَمِ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ جٰہَدُوۡا مِنۡکُمۡ وَ یَعۡلَمَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۴۲﴾آل عمران 142 آیت 1 جونا گڑھی غیر مقلد کا ترجمہ: کیا تم یہ سمجھ بیٹھے ہو کہ تم جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ اب تک اللہ تعالٰی نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ تم میں سے جہاد کرنے والے کون ہیں اور صبر کرنے والے کون ہیں؟۔ 2 تقی عثمانی دیوبندی کا ترجمہ: بھلا کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ( یونہی ) جنت کے اندر جاپہنچو گے؟ حالانکہ ابھی تک اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو جانچ کر نہیں دیکھا جو جہاد کریں ، اور نہ ان کو جانچ کر دیکھا ہے جو ثابت قدم رہنے والے ہیں. 3 ابو الاعلیٰ مودودی کا ترجمہ: کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو دیکھا ہی نہیں کہ تم میں کون وہ لوگ ہیں جو اس کی راہ میں جانیں لڑانے والے اور اس کی خاطر صبر کرنے والے ہیں. 4 ڈاکٹر اسرار احمد کا ترجمہ: کیا تم نے سمجھا تھا کہ جنت میں یونہی داخل ہوجاؤ گے حالانکہ ابھی تو اللہ نے دیکھا ہی نہیں ہے تم میں سے کون واقعتا (اللہ کی راہ میں) جہاد کرنے والے ہیں اور صبر و استقامت کا مظاہرہ کرنے والے ہیں۔ 5 فتح محمد جالندہری دیوبندی کا ترجمہ: کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ (بےآزمائش) بہشت میں جا داخل ہو گے حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو تو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں اور (یہ بھی مقصود ہے) کہ وہ ثابت قدم رہنے والوں کو معلوم کرے. 6 اعلی حضرت امام اھلسنہ رحمۃ اللہ علیہ کا ترجمہ: کیا اس گمان میں ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے اور ابھی اللہ نے تمہارے غازیوں کا امتحان نہ لیا اور نہ صبر والوں آزمائش کی. ✍️انصاف آپ کے ہاتھ میں اللہ کے علم کی نفی کن کے تراجم میں اگر غیر مسلم نتھو ایرے غیرے بولیں کے آپ کا قرآن ہے مولوی بھی مسلم ترجمہ بھی تمہارا تمہارے اللہ کو تو پہلے کسی چیز کا پتہ ہی نہی تو اس اسکے ذمہ دار کون سے ترجمہ والے ہیں۔؟ ✍️امام اھلسنت نے ترجمہ ہی ایسا کیا کہ سوچ بھی اس طرف نہی جاتی نفی علم الہی کی طرف ۔ سلام آپ کو کیا شان ہے اعلی حضرتؒ کی۔ ❤️❤️ دلیل آیت نمبر2❤️❤️ اَللّٰہُ یَسۡتَہۡزِئُ بِہِمۡ وَ یَمُدُّہُمۡ فِیۡ طُغۡیَانِہِمۡ یَعۡمَہُوۡنَ ﴿۱۵﴾ البقرہ آیت15 1 ابو الاعلی مودودی کا ترجمہ: اللہ ان سے مذاق کر رہا ہے ، وہ ان کی رسی دراز کیے جاتا ہے ، اور یہ اپنی سرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹکتے چلے جاتے ہیں. 2 ڈاکٹر اسرار احمد کا ترجمہ: درحقیقت اللہ ان کا مذاق اڑا رہا ہے اور ان کو ان کی سرکشی میں ڈھیل دے رہا ہے کہ وہ اپنے عقل کے اندھے پن میں بڑھتے چلے جائیں۔ 3 فتح محمد جالندہری دیوبندی کا ترجمہ: ان (منافقوں) سے خدا ہنسی کرتا ہے اور انہیں مہلت دیئے جاتا ہے کہ شرارت وسرکشی میں پڑے بہک رہے ہیں. 4 تقی عثمانی دیوبندی کا ترجمہ: اللہ ان سے مذاق ( کا معاملہ ) کرتا ہے اور انہیں ایسی ڈھیل دیتا ہے کہ وہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں۔ 5 جونا گڑھی غیر مقلد کا ترجمہ: اللہ تعالٰی بھی ان سے مذاق کرتا ہے اور انہیں ان کی سرکشی اور بہکاوے میں اور بڑھا دیتا ہے. 6 امام اھلسنہ اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا ترجمہ: اللہ ان سے استہزاء فرماتا ہے ( جیسا اس کی شان کے لائق ہے ) اور انہیں ڈھیل دیتا ہے کہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں. ✍️اب فرق خود کرلیں امام اھلسنہ نے استہزاء کا لفظ فرمایا فرمایا اپنی شان کے مطابق اور کتنا ادب ہے ترجمہ میں۔سبحان الله‎ ۔۔ ✍️دوسروں کے تراجم کو دیکھا جاۓ تو اللہ کے بارے میں شک ہوتا ہے کہ اللہ ہستا ہے شائد ہماری طرح اللہ کسی جگہ پر موجود ہے۔ جسم ہوگا پھر اللہ مزاق بھی کرتا ہے۔العیاذ بااللہ۔ اللہ ہمیں اپنی پناہ میں رکھے۔ ❤️❤️ دلیل آیت نمبر3❤️❤️ وَوَجَدَكَ ضَآ لًّا فَهَدٰى. سورۃ الضحى آیت نمبر7 1 ڈاکٹر اسرار احمد کا ترجمہ: اور آپ ﷺ کو تلاش حقیقت میں سرگرداں پایا تو ہدایت دی! 2 جوناگڑہی غیر مقلد کا ترجمہ: اور تجھے راه بھوﻻ پا کر ہدایت نہیں دی۔ 3 ابوالاعلی مودودی کا ترجمہ: اور تمہیں ناواقف راہ پایا اور پھر ہدایت بخشی. 4 مفتی تقی عثمانی کا ترجمہ: اور تمہیں راستے سے ناواقف پایا تو راستہ دکھایا. 5 فتح محمد جالندہری کا ترجمہ: اور رستے سے ناواقف دیکھا تو رستہ دکھایا. امام اھلسنہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن کا ترجمہ:۔ اور تمہیں اپنی محبت میں خود رفتہ پایا تو اپنی طرف راہ دی، END ✍️اب اندازہ خود لگائیں ترجمہ دیکھ میں اب کچھ نہی کہتا قارئین کرام آپ خود فیصلہ کریں ۔ نبی علیہ السلام کو ناوافق بھولا ہوا کس نے لکھا کہ؟ ✍️اور امام اھسنت کا ترجمہ دیکھیں انہوں نے ایسا نہی لکھا ۔ فیض رضا جاری رہے گا۔۔إن شاءالله (طالب دعا: محمد عمران علی حیدری) 09.09.2021. 01صفر المظفر 1443ھ
  2. ⛲امتیازی شان کنزالایمان⛲ اعلیحضرت، عظیم البرکت، عظیم المرتبت، ولی نعمت، سیدی، مرشدی، امام اھلسنت، مجدد دین و ملت،الحاج،الحافظ، القاری، الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن۔ ✍️ کا ترجمہ کنزالایمان۔ خزینہ القرآن،نرالی شان، سب سے الگ پہچان، جس میں رکھا ادب کا دیان، اس پوسٹ کو پڑھ کے آپ بھی ہوجائیں حیران و پریشان۔پھر آپ کو چلے گا پتہ کیا ہے اعلی حضرتؒ کی شان۔ ⛲تراجم کا تقابل المختصر⛲ الصلوۃ والسلام علیک یا سیدی یا خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم 🗡️ضرب حیدری🗡️ فیض رضا جاری رہے گا 💪💪💪 ✍️اس آیت کے مختلف تراجم پیش کریں گے۔ فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہوگا۔ ایمان داری سے دیکھیں پڑھیں سمجھیں۔ ✍️۔ آخر میں امام اھلسنت کا ترجمہ کو رکھا گیا ہے۔ تاکہ سمجھنے آسانی ہو۔ اس پوسٹ میں تین آیات کو کے تراجم موازنہ ہوگا باقی کسی دوسری پوسٹ میں اگر موقع ملا تو۔ إن شاءالله۔۔ ✍️یہ پوسٹ ماہ رضا کی نسبت سے لکھ رہا ہوں۔ ❤️❤️ دلیل آیت نمبر 1❤️❤️ اَمۡ حَسِبۡتُمۡ اَنۡ تَدۡخُلُوا الۡجَنَّۃَ وَ لَمَّا یَعۡلَمِ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ جٰہَدُوۡا مِنۡکُمۡ وَ یَعۡلَمَ الصّٰبِرِیۡنَ ﴿۱۴۲﴾آل عمران 142 آیت 1 جونا گڑھی غیر مقلد کا ترجمہ: کیا تم یہ سمجھ بیٹھے ہو کہ تم جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ اب تک اللہ تعالٰی نے یہ ظاہر نہیں کیا کہ تم میں سے جہاد کرنے والے کون ہیں اور صبر کرنے والے کون ہیں؟۔ 2 تقی عثمانی دیوبندی کا ترجمہ: بھلا کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ ( یونہی ) جنت کے اندر جاپہنچو گے؟ حالانکہ ابھی تک اللہ نے تم میں سے ان لوگوں کو جانچ کر نہیں دیکھا جو جہاد کریں ، اور نہ ان کو جانچ کر دیکھا ہے جو ثابت قدم رہنے والے ہیں. 3 ابو الاعلیٰ مودودی کا ترجمہ: کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو دیکھا ہی نہیں کہ تم میں کون وہ لوگ ہیں جو اس کی راہ میں جانیں لڑانے والے اور اس کی خاطر صبر کرنے والے ہیں. 4 ڈاکٹر اسرار احمد کا ترجمہ: کیا تم نے سمجھا تھا کہ جنت میں یونہی داخل ہوجاؤ گے حالانکہ ابھی تو اللہ نے دیکھا ہی نہیں ہے تم میں سے کون واقعتا (اللہ کی راہ میں) جہاد کرنے والے ہیں اور صبر و استقامت کا مظاہرہ کرنے والے ہیں۔ 5 فتح محمد جالندہری دیوبندی کا ترجمہ: کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ (بےآزمائش) بہشت میں جا داخل ہو گے حالانکہ ابھی خدا نے تم میں سے جہاد کرنے والوں کو تو اچھی طرح معلوم کیا ہی نہیں اور (یہ بھی مقصود ہے) کہ وہ ثابت قدم رہنے والوں کو معلوم کرے. 6 اعلی حضرت امام اھلسنہ رحمۃ اللہ علیہ کا ترجمہ: کیا اس گمان میں ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے اور ابھی اللہ نے تمہارے غازیوں کا امتحان نہ لیا اور نہ صبر والوں آزمائش کی. ✍️انصاف آپ کے ہاتھ میں اللہ کے علم کی نفی کن کے تراجم میں اگر غیر مسلم نتھو ایرے غیرے بولیں کے آپ کا قرآن ہے مولوی بھی مسلم ترجمہ بھی تمہارا تمہارے اللہ کو تو پہلے کسی چیز کا پتہ ہی نہی تو اس اسکے ذمہ دار کون سے ترجمہ والے ہیں۔؟ ✍️امام اھلسنت نے ترجمہ ہی ایسا کیا کہ سوچ بھی اس طرف نہی جاتی نفی علم الہی کی طرف ۔ سلام آپ کو کیا شان ہے اعلی حضرتؒ کی۔ ❤️❤️ دلیل آیت نمبر2❤️❤️ اَللّٰہُ یَسۡتَہۡزِئُ بِہِمۡ وَ یَمُدُّہُمۡ فِیۡ طُغۡیَانِہِمۡ یَعۡمَہُوۡنَ البقرہ آیت15 1 ابو الاعلی مودودی کا ترجمہ: اللہ ان سے مذاق کر رہا ہے ، وہ ان کی رسی دراز کیے جاتا ہے ، اور یہ اپنی سرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹکتے چلے جاتے ہیں. 2 ڈاکٹر اسرار احمد کا ترجمہ: درحقیقت اللہ ان کا مذاق اڑا رہا ہے اور ان کو ان کی سرکشی میں ڈھیل دے رہا ہے کہ وہ اپنے عقل کے اندھے پن میں بڑھتے چلے جائیں۔ 3 فتح محمد جالندہری دیوبندی کا ترجمہ: ان (منافقوں) سے خدا ہنسی کرتا ہے اور انہیں مہلت دیئے جاتا ہے کہ شرارت وسرکشی میں پڑے بہک رہے ہیں. 4 تقی عثمانی دیوبندی کا ترجمہ: اللہ ان سے مذاق ( کا معاملہ ) کرتا ہے اور انہیں ایسی ڈھیل دیتا ہے کہ وہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں۔ 5 جونا گڑھی غیر مقلد کا ترجمہ: اللہ تعالٰی بھی ان سے مذاق کرتا ہے اور انہیں ان کی سرکشی اور بہکاوے میں اور بڑھا دیتا ہے. 6 امام اھلسنہ اعلی حضرت رحمۃ اللہ علیہ کا ترجمہ: اللہ ان سے استہزاء فرماتا ہے ( جیسا اس کی شان کے لائق ہے ) اور انہیں ڈھیل دیتا ہے کہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں. ✍️اب فرق خود کرلیں امام اھلسنہ نے استہزاء کا لفظ فرمایا فرمایا اپنی شان کے مطابق اور کتنا ادب ہے ترجمہ میں۔سبحان الله‎ ۔۔ ✍️دوسروں کے تراجم کو دیکھا جاۓ تو اللہ کے بارے میں شک ہوتا ہے کہ اللہ ہستا ہے شائد ہماری طرح اللہ کسی جگہ پر موجود ہے۔ جسم ہوگا پھر اللہ مزاق بھی کرتا ہے۔العیاذ بااللہ۔ اللہ ہمیں اپنی پناہ میں رکھے۔ ❤️❤️ دلیل آیت نمبر3❤️❤️ وَوَجَدَكَ ضَآ لًّا فَهَدٰى. 7سورۃ الضحى آیت نمبر 1 ڈاکٹر اسرار احمد کا ترجمہ: اور آپ ﷺ کو تلاش حقیقت میں سرگرداں پایا تو ہدایت دی! 2 جوناگڑہی غیر مقلد کا ترجمہ: اور تجھے راه بھوﻻ پا کر ہدایت نہیں دی۔ 3 ابوالاعلی مودودی کا ترجمہ: اور تمہیں ناواقف راہ پایا اور پھر ہدایت بخشی. 4 مفتی تقی عثمانی کا ترجمہ: اور تمہیں راستے سے ناواقف پایا تو راستہ دکھایا. 5 فتح محمد جالندہری کا ترجمہ: اور رستے سے ناواقف دیکھا تو رستہ دکھایا. امام اھلسنہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن کا ترجمہ6:۔ اور تمہیں اپنی محبت میں خود رفتہ پایا تو اپنی طرف راہ دی، END ✍️اب اندازہ خود لگائیں ترجمہ دیکھ میں اب کچھ نہی کہتا قارئین کرام آپ خود فیصلہ کریں ۔ نبی علیہ السلام کو ناوافق بھولا ہوا کس نے لکھا کہ؟ ✍️اور امام اھسنت کا ترجمہ دیکھیں انہوں نے ایسا نہی لکھا ۔ فیض رضا جاری رہے گا۔۔إن شاءالله (طالب دعا: محمد عمران علی حیدری) 09.09.2021. 01صفر المظفر 1443ھ
  3. ⛲ \ دم و تعویزٍ \ ⛲ بسم اللہ الرحمن الرحیم یا اللہ جَلَّ جَلَالُہٗ یارسول ﷺ اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہ وَعَلٰی اٰلِکَ وَ اَصْحٰبِکَ یَا حَبِیْبَ اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا نَبِیَّ اللّٰہ وَعَلٰی اٰلِکَ وَ اَصْحٰبِکَ یَا نُوْرَ اللّٰہ فیض رضا جاری رہے گا دم و تعویز قرآن و حدیث سے ثابت ہے. المختصر:۔ شرکیہ تعویذ ممنوع ہیں جن میں شرکیہ کلیمات ہوتے ہیں اگر جس تعویذ میں شرکیہ جملہ کلمہ لفظ وغیرہ نہ ہو وہ جائز ہے۔ اور وہ ثابت شدہ ہے اور اسی طرح دم کا حکم بھی ایسے ہی ہے۔ جیسا کہ آپ آگے اسی پوسٹ میں پڑھیں گے۔ ۔إن شاءالله سورۃ نمبر الإسراء آیت82 أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ وَنُنَزِّلُ مِنَ الۡـقُرۡاٰنِ مَا هُوَ شِفَآءٌ وَّرَحۡمَةٌ لِّـلۡمُؤۡمِنِيۡنَ‌ۙ وَلَا يَزِيۡدُ الظّٰلِمِيۡنَ اِلَّا خَسَارًا‏۔ ترجمہ کنزالایمان :اور ہم قرآن میں اتارتے ہیں وہ چیز جو ایمان والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے اور اس سے ظالموں کو نقصان ہی بڑھتا ہے۔ تفسیر مختصر:. قرآن شفا ہے کہ اس سے ظاہری و باطنی اَمراض، گمراہی اور جہالت وغیرہ دور ہوتے ہیں اور ظاہری و باطنی صحت حاصل ہوتی ہے۔ باطل عقائد، رذیل اخلاق اس کے ذریعے دفع ہوتے ہیں اور عقائد ِحقہ ، معارفِ الٰہیہ ، صفاتِ حمیدہ اور اَخلاقِ فاضلہ ہوتے ہیں کیونکہ یہ کتابِ مجید ایسے علوم و دلائل پر مشتمل ہے جو وہم پر مَبنی چیزوں کواور شیطانی ظلمتوں کو اپنے انوار سے نیست و نابُود کر دیتے ہیں اور اس کا ایک ایک حرف برکات کا گنجینہ و خزانہ ہے جس سے جسمانی امراض اور آسیب دور ہوتے ہیں۔ (خازن، الاسراء، تحت الآیۃ: ۸۲۔) (روح البیان، الاسراء، تحت الآیۃ: ۸۲۔) خزائن العرفان، بنی اسرا ئیل، تحت الآیۃ:(۸٢) (محمد عمران علی حیدری) 1 نمبر بخاری شریف۔باب الرّقی بفاتحۃ الکتاب ۔حدیث5736 ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہےکہ:۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند صحابہ در حالت سفر عرب کے ایک قبیلہ پر گزرے۔ قبیلہ والوں نے ان کی ضیافت نہیں کی کچھ دیر بعد اس قبیلہ کے سردار کو بچھو نے کاٹ لیا، اب قبیلہ والوں نے ان صحابہ سے کہا کہ آپ لوگوں کے پاس کوئی دوا یا کوئی جھاڑنے والا ہے۔ صحابہ نے کہا کہ تم لوگوں نے ہمیں مہمان نہیں بنایا اور اب ہم اس وقت تک دم نہیں کریں گے جب تک تم ہمارے لیے اس کی مزدوری نہ مقرر کر دو۔ چنانچہ ان لوگوں نے چند بکریاں دینی منظور کر لیں پھر ( ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ ) سورۃ فاتحہ پڑھنے لگے اور اس پر دم کرنے میں منہ کا تھوک بھی اس جگہ پر ڈالنے لگے۔ اس سے وہ شخص اچھا ہو گیا۔ چنانچہ قبیلہ والے بکریاں لے کر آئے لیکن صحابہ نے کہا کہ جب تک ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ پوچھ لیں یہ بکریاں نہیں لے سکتے پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تو آپ مسکرائے اور فرمایا تمہیں کیسے معلوم ہو گیا تھا کہ سورۃ فاتحہ سے دم بھی کیا جا سکتا ہے، ان بکریوں کو لے لو اور اس میں میرا بھی حصہ لگاؤ۔ (محمد عمران علی حیدری) 2 حدیث نمبر بخاری شریف۔ باب فی المرأۃ ترقی الرجل حدیث 5751 حضرت اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ:. نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مرض وفات میں معوذات پڑھ کر پھونکتے تھے پھر جب آپ کے لیے یہ دشوار ہو گیا تو میں آپ پر دم کیا کرتی تھی اور برکت کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ آپ کے جسم پر پھیرتی تھی۔ ( معمر نے بیان کیا کہ ) پھر میں نے ابن شہاب سے سوال کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کس طرح دم کیا کرتے تھے؟ انہوں نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہلے اپنے دونوں ہاتھوں پر پھونک مارتے پھر ان کو چہرے پر پھیر لیتے۔ (محمد عمران علی حیدری) 3 حدیث نمبر حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ، ‏‏‏‏‏‏وَعُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَا:‏‏‏‏ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ‏‏‏‏‏‏ ‏‏‏‏‏‏عَنْعَمْرَةَ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عَائِشَةَ، ‏‏‏‏‏‏قَالَتْ:‏‏‏‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ‏‏‏‏‏‏يَقُولُ:‏‏‏‏ لِلإِنْسَانِ إِذَا اشْتَكَى يَقُولُ بِرِيقِهِ، ‏‏‏‏‏‏ثُمَّ قَالَ بِهِ فِي التُّرَابِ تُرْبَةُ أَرْضِنَا بِرِيقَةِ بَعْضِنَا يُشْفَى سَقِيمُنَا بِإِذْنِ رَبِّنَا۔ سنن ابی داؤد جلد4.حدیث 3895۔ ھذا حدیث صحیح سنن ابن ماجہ جلد٤ حدیث3521 الحکم حدیث صحیح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے جب کوئی اپنی بیماری کی شکایت کرتا تو آپ اپنا لعاب مبارک لیتے پھر اسے مٹی میں لگا کر فرماتے: «تربة أرضنا بريقة بعضنا يشفى سقيمنا بإذن ربنا» یہ ہماری زمین کی خاک ہے ہم میں سے بعض(بزرگوں) کے لعاب سے ملی ہوئی ہے تاکہ ہمارا بیمار ہمارے رب کے حکم سے شفاء پا جائے (محمد عمران علی حیدری) : اب تعویذات کے حوالہ سے 1 حدیث نمبر الجامع سنن الترمذی جلد3.حدیث 352. ھذا حدیث صحیح عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ:. رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:۔ جب تم میں سے کوئی نیند میں ڈر جائے تو ( یہ دعا ) پڑھے: أعوذ بكلمات الله التامات من غضبه وعقابه وشر عباده ومن همزات الشياطين وأن يحضرون ترجمہ: میں پناہ مانگتا ہوں اللہ کے کامل و جامع کلموں کے ذریعہ اللہ کے غضب، اللہ کے عذاب اور اللہ کے بندوں کے شر و فساد اور شیاطین کے وسوسوں سے اور اس بات سے کہ وہ ہمارے پاس آئیں۔ یہ پریشان کن خواب اسے کچھ نقصان نہ پہنچا سکے گا۔ عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما اپنے بالغ بچوں کو یہ دعا سکھا دیتے تھے، اور جو بچے نابالغ ہوتے تھے ان کے لیے یہ دعا کاغذ پر لکھ کر ان کے گلے میں لٹکا دیتے تھے. امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث حسن غریب ہے۔۔ (محمدعمران علی حیدری) اس حدیث ثابت ہوا تعویذ کا ثبوت بھی۔بس یہ ایک مختصر سا جواب لکھا ہے ورنہ اس پر ہمارے علماء کی بڑی بڑی تحریرات موجود ہیں۔اور کتب موجود ہیں۔ وہابیوں تمہارا بابا کیا کہتا ہےاس کی ہی مان لو قرآن وحدیث تو تم لوگ مانتے نہیں ہو! وہابی سے سوال ہوا کہ گلے میں تعویذ لٹکانا جائز ہے یا نہیں ؟ جواب میں فرماتے ہیں:تعویذ نوشتہ در گلو انداختن مضائقہ ندارد۔ مگر اشہر و اصح جواز است۔ (فتاویٰ نذیریہ ج3 ص 298۔نذیر حسین دہلوی) لکھے ہوئے تعویذ کو گلے میں لٹکانا درست ہے کوئی حرج کی بات نہیں زیادہ صحیح بات یہی ہے کہ جائز ہے. لگتا ہے اب ابا کی جوتے کی نوک پر ہونگے یا پھر تین طلاق🤭🤭🤭🤭۔ ( طالب دعا :محمد عمران علی حیدری) 31جولائی 2021. 20ذولحجہ 1442ھ
×
×
  • Create New...