Jump to content

Syed Kamran Qadri

اراکین
  • کل پوسٹس

    526
  • تاریخِ رجسٹریشن

  • آخری تشریف آوری

  • جیتے ہوئے دن

    43

سب کچھ Syed Kamran Qadri نے پوسٹ کیا

  1. http://www.islamimehfil.com/topic/11097-ilme-e-ghaib-e-nabi-alaihisslatowasslam/
  2. آج ایک خاص طبقہ ہے جو میلاد منانے پہ صحابی کا قول بطورِ دلیل طلب کرتا ہے اور کہتا ہے کہ کیا صحابہ نے ایسا کیا؟ اگر کیا ہے تو دلیل پیش کرو؟ ان کے جواب کے لیے ان ہی کے گھر سے حوالے ملاحضہ کریں کہ یہ خود آیا کیا صحابہ کے قول کو حجت مانتے ہیں یا نہیں چنانچہ غیر مقلدین کے مذہب وعقیدہ میں صحابی کا قول دین وشریعت میں حجت نہیں ہے فتاوی نذیریہ میں لکھا ہے “دوم آنکہ اگر تسلیم کردہ شود کہ سند ایں فتوی صحیح ست تاہم ازواحتجاج صحیح نیست زیرا کہ قول صحابی حجت نیست“-ص340 یعنی دوسری بات یہ ہے کہ اگر حضرت عبداللہ بن عباس اور حضرت عبداللہ بن زبیر کا یہ فتویٰ صحیح بھی ہے تب بھی اس سے دلیل پکڑنا درست نہیں ہے ،اس لیۓ کہ قول صحابی حجت نہیں ہے ۔ اور نواب صدیق حسن خان نے عرف الجادی میں لکھا ہے ۔ “حدیث جابر دریں باب قول جابر ست وقول صحابی حجت نیست“ یعنی حضرت جابر کی یہ بات (لا صلوۃ لمن یقراء ) والی حدیث تنہا نماز پڑھنے والے کے لیۓ ہے حضرت جابر کا قول ہے اور قول صحابی حجت نہیں ہوتا ۔ص38 فتاوی نذیریہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں لکھتے ہیں- “مگر خوب یاد رکھنا چاہیۓکہ حضرت علی (رضی اللہ عنہ) کے اس قول سے صحت جمعہ کے لیۓ مصر کاشرط ہونا ہر گز ثابت نہی ہوسکتا۔ (فتاوی نذیریہ ص594 ج 1) صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فہم بھی حجت نہیں ہے فتاوی نذیریہ میں لکھا ہوا ہے : رابعا یہ کہ( ولوفرضنا ) تو یہ عائشہ اپنے فہم سے فرماتی ہیں ،یعنی حضرت عائشہ کا یہ کہنا کہ اگر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم ہوتے توآپ عورتوں کو مسجد جانے سے منع کردیتے ، فہم صحابہ حجت نہیں-(ص622ج1) یہ ہے ان وہابیوں کی اصلیت اگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اگر ہیئت کذائیہ میں میلاد منا بھی لیتے تو وہابی پھر بھی نہ مانتا۔۔۔۔
  3. http://www.islamimehfil.com/topic/24074-%D9%85%DB%8C%D9%84%D8%A7%D8%AF-%D8%B4%D8%B1%DB%8C%D9%81-%D8%B3%DB%92-%D9%85%D8%AA%D8%B9%D9%84%D9%82-%D8%AD%D8%AF%DB%8C%D8%AB-%D9%BE%D8%B1-%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D8%B6-%D8%A8%D8%B1%D8%A7%DB%93-%D8%A7%D8%B9%D8%AA%D8%B1%D8%A7%D8%B6-%DA%A9%D8%A7/
  4. امام حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ کی نظر میں میلاد ابن حجرعسقلانی کی شخصیت کے متعلق سیدی اعلیحضرت علیہ الرحمہ ارشاد فرماتے ہیں میری نظر میں امام ابنِ حجر عسقلانی شارحِ صحیح بخاری(علیہ رحمۃ اللہ الباری) کی وُقعت (یعنی عظمت) اِبتداء ًامام بدر الدین محمود عینی شار ح صحیح بخاری (علیہ رحمۃ اللہ الباری)سے زیادہ تھی ۔''فُضلاتِ شریفہ'' کی طہارت کی بحث ان دونوں صاحبوں نے کی ہے۔ امام ابنِ حجر ( رحمۃ اللہ علیہ)نے اَبْحَاثِ مُحَدِّثانہ لکھی ہیں،امام عینی ( رحمۃ اللہ علیہ)نے بھی شرح بخاری میں اس بحث کو بہت بَسْط( یعنی تفصیل) سے لکھا ہے۔ آخر میں لکھتے ہیں کہ ''یہ سب کچھ اَبحاث ہیں۔ جو شخص طہارت کا قائل ہو اُس کو میں مانتا ہوں اور جو اس کے خلاف کہے اس کے لیے میرے کان بہرے ہیں، میں سنتا نہیں ۔'' (عمدۃ القاری،کتاب الوضو، باب الماء الذی یغسل بہ شعر الانسان ،ج۲،ص ۴۸۱وفتح الباری کتاب الوضو،باب الماء الذی یغسل بہ شعر الانسان،ج۲،ص۲۴۶) یہ لفظ ان کی کمالِ محبت کو ثابت کرتا ہے اور میرے دل میں ایسا اثر کر گیا کہ ان کی وُقعت (یعنی عظمت)بہت ہوگئی۔ (ملفوظات اعلیحضرت ص 458) شارحِ صحیح البخاری حافظ شہاب الدین ابو الفضل احمد بن علی بن حجر عسقلانی نے عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شرعی حیثیت واضح طور پر متحقق کی ہے اور یوم میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانے کی اِباحت پر دلیل قائم کی ہے۔ حافظ اِبن حجر عسقلانی کا اِستدلال نقل کرتے ہوئے اِمام جلال الدین سیوطی (849۔ 911ھ) لکھتے ہیں : وقد سئل شيخ الإسلام حافظ العصر أبوالفضل ابن حجر عن عمل المولد، فأجاب بما نصه : قال : وقد ظهر لي تخريجها علي أصل ثابت، وهو ما ثبت في الصحيحين من : ’’أن النبي صلي الله عليه وآله وسلم قدم المدينة، فوجد اليهود يصومون يوم عاشوراء، فسألهم، فقالوا : هو يوم اغرق اﷲ فيه فرعون، ونجي موسي، فنحن نصومه شکرًا ﷲ تعالي. فيستفاد منه فعل الشکر ﷲ تعالي علي ما منَّ به في يوم معين من إسداء نعمة، أو دفع نقمة، ويعاد ذلک في نظير ذلک اليوم من کل سنة. والشکر ﷲ تعالي يحصل بأنواع العبادات کالسجود والصيام والصدقة والتلاوة، وأيّ نعمة أعظم من النعمة ببروز هذا النبي صلي الله عليه وآله وسلم الذي هو نبي الرحمة في ذلک اليوم. وعلي هذا فينبغي أن يتحري اليوم بعينه، حتي يطابق قصة موسي عليه السلام في يوم عاشوراء. ومن لم يلاحظ ذلک لا يبالي بعمل المولد في أيّ يوم في الشهر، بل توسَّع قوم حتي نقلوه إلي يوم من السنة. وفيه ما فيه. فهذا ما يتعلق بأصل عمل المولد. وأما ما يُعمل فيه فينبغي أن يقتصر فيه علي ما يفهم الشکر ﷲ تعالي من نحو ما تقدم ذکره من التلاوة، والإطعام، والصدقة، وإنشاد شيء من المدائح النبوية والزهدية المحرکة للقلوب إلي فعل الخيرات والعمل للآخرة. ’’شیخ الاسلام حافظ العصر ابو الفضل ابن حجر سے میلاد شریف کے عمل کے حوالے سے پوچھا گیا تو آپ نے اس کا جواب کچھ یوں دیا : ’’مجھے میلاد شریف کے بارے میں اصل تخریج کا پتہ چلا ہے۔ ’’صحیحین‘‘ سے ثابت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہود کو عاشورہ کے دن روزہ رکھتے ہوئے پایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا : ایسا کیوں کرتے ہو؟ اس پر وہ عرض کناں ہوئے کہ اس دن ﷲ تعالیٰ نے فرعون کو غرق کیا اور موسیٰ علیہ السلام کو نجات دی، سو ہم ﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکر بجا لانے کے لیے اس دن کا روزہ رکھتے ہیں۔ ’’اس حدیث مبارکہ سے ثابت ہوا کہ ﷲ تعالیٰ کی طرف سے کسی اِحسان و اِنعام کے عطا ہونے یا کسی مصیبت کے ٹل جانے پر کسی معین دن میں ﷲ تعالیٰ کا شکر بجا لانا اور ہر سال اس دن کی یاد تازہ کرنا مناسب تر ہے۔ ’’ﷲ تعالیٰ کا شکر نماز و سجدہ، روزہ، صدقہ اور تلاوتِ قرآن و دیگر عبادات کے ذریعہ بجا لایا جا سکتا ہے اور حضور نبی رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت سے بڑھ کر ﷲ کی نعمتوں میں سے کون سی نعمت ہے؟ اس لیے اس دن ضرور شکرانہ بجا لانا چاہیے۔ ’’اس وجہ سے ضروری ہے کہ اسی معین دن کو منایا جائے تاکہ یومِ عاشوراء کے حوالے سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ سے مطابقت ہو۔ ’’اور اگر کوئی اس چیز کو ملحوظ نہ رکھے تو میلادِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے عمل کو ماہ کے کسی بھی دن منانے میں حرج نہیں بلکہ بعض نے تو اسے یہاں تک وسیع کیا ہے کہ سال میں سے کوئی دن بھی منا لیا جائے۔ پس یہی ہے جو کہ عملِ مولد کی اصل سے متعلق ہے۔ ’’جب کہ وہ چیزیں جن پر عمل کیا جاتا ہے ضروری ہے کہ ان پر اکتفا کیا جائے جس سے شکرِ خداوندی سمجھ آئے۔ جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ (ان میں) ذکر، تلاوت، ضیافت، صدقہ، نعتیں، صوفیانہ کلام جو کہ دلوں کو اچھے کاموں کی طرف راغب کرے اور آخرت کی یاد دلائے (وغیرہ جیسے اُمور شامل ہیں)۔‘‘ 1. سيوطي، حسن المقصد في عمل المولد : 63، 64 2. سيوطي، الحاوي للفتاوي : 205، 206 3. صالحي، سبل الهديٰ والرشاد في سيرة خير العباد صلي الله عليه وآله وسلم ، 1 : 366 4. زرقاني، شرح المواهب اللدنية بالمنح المحمدية، 1 : 263 5. احمد بن زيني دحلان، السيرة النبوية، 1 : 54 6. نبهاني، حجة اﷲ علي العالمين في معجزات سيد المرسلين صلي الله عليه وآله وسلم : 237
  5. جشن میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امام جلال الدین سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کی نظر میں امام جلال الدین عبد الرحمٰن بن ابی بکر سیوطی (1445۔ 1505ء) کا شمار ان جلیل القدر محققین و مصنفین میں ہوتا ہے جنہوں نے میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تناظر میں بیش بہا معلومات بہم پہنچائی ہیں۔ اس ضمن میں ان کی کتاب ’’حسن المقصد فی عمل المولد‘‘ کا حوالہ دیا جا رہا ہے۔ یہ کتاب اِمام سیوطی رحمۃ اللہ علیہ کی ایک اور کتاب ’’الحاوی للفتاوی‘‘ کا حصہ ہے۔ اِس حصہ میں نقلی و عقلی دلائل کے ساتھ تقریبِ میلاد کا شرعی جواز دینے کے علاوہ میلاد کی تاریخی، مذہبی، فقہی اور شرعی حیثیت کی تفصیلات بھی فراہم کی گئی ہیں اور کئی ائمہ کرام کے اِرشادات نقل کیے گئے ہیں۔ ذیل میں اس کتاب کے چند اہم اقتباسات درج کیے جاتے ہیں : 1. إن أصل عمل المولد الذي هو اجتماع الناس، وقراء ة ما تيسر من القرآن، ورواية الأخبار الواردة في مبدأ (أمر) النبي صلي الله عليه وآله وسلم ، وما وقع في مولده من الآيات، ثم يُمدّ لهم سماطاً يأکلونه، وينصرفون من غير زيادة علي ذلک من البدع (الحسنة) التي يثاب عليها صاحبها؛ لما فيه من تعظيم قدر النبي صلي الله عليه وآله وسلم ، وإظهار الفرح والاستبشار بمولده (صلي الله عليه وآله وسلم) الشريف. ’’رسولِ معظم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا میلاد منانا جو کہ اصل میں لوگوں کے جمع ہو کر بہ قدرِ سہولت قرآن خوانی کرنے اور ان روایات کا تذکرہ کرنے سے عبارت ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارے میں منقول ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت مبارکہ کے معجزات اور خارق العادت واقعات کے بیان پر مشتمل ہوتا ہے۔ پھر اس کے بعد ان کی ضیافت کا اہتمام کیا جاتا ہے اور وہ تناول ماحضر کرتے ہیں اور وہ اس بدعتِ حسنہ میں کسی اضافہ کے بغیر لوٹ جاتے ہیں اور اس اہتمام کرنے والے کو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد پر اِظہارِ فرحت و مسرت کی بناء پر ثواب سے نوازا جاتا ہے۔‘‘ 2. إن ولادته صلي الله عليه وآله وسلم أعظم النعم علينا، ووفاته أعظم المصائب لنا، والشريعة حثّت علي إظهار شکر النعم والصبر والسکون والکتم عند المصائب، وقد أمر الشرع بالعقيقة عند الولادة وهي إظهار شکر وفرح بالمولود، ولم يأمر عند الموت بذبح ولا بغيره. بل نهي عن النياحة وإظهار الجزع، فدلّت قواعد الشريعة علي أنه يحسن في هذا الشهر إظهار الفرح بولادته صلي الله عليه وآله وسلم دون إظهار الحزن فيه بوفاته. ’’بے شک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت ہمارے لیے نعمتِ عظمیٰ ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات ہمارے لیے سب سے بڑی مصیبت ہے۔ تاہم شریعت نے نعمت پر اِظہارِ شکر کا حکم دیا ہے اور مصیبت پر صبر و سکون کرنے اور اُسے چھپانے کا حکم دیا ہے۔ اِسی لیے شریعت نے ولادت کے موقع پر عقیقہ کا حکم دیا ہے اور یہ بچے کے پیدا ہونے پر اللہ کے شکر اور ولادت پر خوشی کے اِظہار کی ایک صورت ہے، لیکن موت کے وقت جانور ذبح کرنے جیسی کسی چیز کا حکم نہیں دیا بلکہ نوحہ اور جزع وغیرہ سے بھی منع کر دیا ہے۔ لہٰذا شریعت کے قواعد کا تقاضا ہے کہ ماہِ ربیع الاول میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت باسعادت پر خوشی کا اظہار کیا جائے نہ کہ وصال کی وجہ سے غم کا۔‘‘ 3. وظهر لي تخريجه علي أصلٍ آخر، وهو ما أخرجه البيهقي، عن أنس رضي الله عنه أن النبي صلي الله عليه وآله وسلم عقّ عن نفسه بعد النبوة. مع أنه قد ورد أن جده عبد المطلب عقّ عنه في سابع ولادته، والعقيقة لا تعاد مرة ثانية، فيحمل ذلک علي أن الذي فعله النبي صلي الله عليه وآله وسلم إظهارًا للشکر علي إيجاد اﷲ تعالي إياه، رحمة للعالمين وتشريفًا لأمته، کما کان يصلي علي نفسه، لذلک فيستحب لنا أيضًا إظهار الشکر بمولده باجتماع الإخوان، وإطعام الطعام، ونحو ذلک من وجوه القربات، وإظهار المسرات. ’’يوم میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منانے کے حوالے سے ایک اور دلیل جو مجھ پر ظاہر ہوئی ہے وہ ہے جو امام بیہقی نے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اِعلانِ نبوت کے بعدخود اپنا عقیقہ کیا باوُجود اس کے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دادا عبد المطلب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیدائش کے ساتویں روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا عقیقہ کر چکے تھے۔ اور عقیقہ دو (2) بار نہیں کیا جاتا۔ پس یہ واقعہ اِسی چیز پر محمول کیا جائے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دوبارہ اپنا عقیقہ کرنا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا شکرانے کا اِظہار تھا اس بات پر کہ اﷲ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو رحمۃ للعالمین اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُمت کے شرف کا باعث بنایا۔ اسی طرح ہمارے لیے مستحب ہے کہ ہم بھی حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یومِ ولادت پر خوشی کا اِظہار کریں اور کھانا کھلائیں اور دیگر عبادات بجا لائیں اور خوشی کا اظہار کریں۔‘‘
  6. وجعل لمن فرح بمولده حجابًا من النار وسترًا، ومن أنفق في مولده درهمًا کان المصطفيٰ صلي الله عليه وآله وسلم له شافعًا ومشفعًا، وأخلف اﷲ عليه بکل درهم عشرًا. فيا بشري لکم أمة محمد لقد نلتم خيرًا کثيرًا في الدنيا وفي الأخري. فيا سعد من يعمل لأحمد مولدًا فيلقي الهناء والعز والخير والفخر، ويدخل جنات عدن بتيجان درّ تحتها خلع خضرًا ’’اور ہر وہ شخص جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد کے باعث خوش ہوا، اﷲ تعالیٰ نے (یہ خوشی) اس کے لیے آگ سے محفوظ رہنے کے لیے حجاب اور ڈھال بنادی۔ اور جس نے مولدِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے ایک درہم خرچ کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اُس کے لیے شافع و مشفع ہوں گے۔ اور اﷲ تعالیٰ ہر درہم کے بدلہ میں اُسے دس درہم عطا فرمائے گا۔ ’’اے اُمتِ محمدیہ! تجھے بشارت کہ تونے دنیا و آخرت میں خیر کثیر حاصل کی۔ پس جو کوئی احمد مجتبیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے میلاد کے لیے کوئی عمل کرتا ہے تو وہ خوش بخت ہے اور وہ خوشی، عزت، بھلائی اور فخر کو پالے گا۔ اور وہ جنت کے باغوں میں موتیوں سے مرصع تاج اور سبز لباس پہنے داخل ہوگا۔‘‘
  7. بقول ابن تیمیہ میلاد شریف کی تعظیم اور اسے شعار بنا لینے پر اجر عظیم ہے تقی الدین احمد بن عبد الحلیم بن عبد السلام بن تیمیہ (1263۔ 1328ء) اپنی کتاب اقتضاء الصراط المستقیم لمخالفۃ اصحاب الجحیم میں لکھتا ہے :وکذلک ما يحدثه بعض الناس، إما مضاهاة للنصاري في ميلاد عيسي عليه السلام، وإما محبة للنبي صلي الله عليه وآله وسلم وتعظيمًا. واﷲ قد يثيبهم علي هذه المحبة والاجتهاد، لا علي البدع، من اتخاذ مولد النبي صلي الله عليه وآله وسلم عيدًا. ’’اور اِسی طرح اُن اُمور پر (ثواب دیا جاتا ہے) جو بعض لوگ ایجاد کرلیتے ہیں، میلادِ عیسیٰ علیہ السلام میں نصاریٰ سے مشابہت کے لیے یا حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت اور تعظیم کے لیے۔ اور ﷲ تعالیٰ اُنہیں اِس محبت اور اِجتہاد پر ثواب عطا فرماتا ہے نہ کہ بدعت پر، اُن لوگوں کو جنہوں نے یومِ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بہ طور عید اپنایا۔‘‘ ابن تيميه، اقتضاء الصراط المستقيم لمخالفة أصحاب الجحيم : 404 اِسی کتاب میں دوسری جگہ لکھتا ہے : فتعظيم المولد واتخاذه موسماً، قد يفعله بعض الناس، ويکون له فيه أجر عظيم؛ لحسن قصده، وتعظيمه لرسول ﷲ صلي الله عليه وآله وسلم، کما قدمته لک أنه يحسن من بعض الناس ما يستقبح من المؤمن المسدد. ’’میلاد شریف کی تعظیم اور اسے شعار بنا لینا بعض لوگوں کا عمل ہے اور اِس میں اُس کے لیے اَجر عظیم بھی ہے کیوں کہ اُس کی نیت نیک ہے اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعظیم بھی ہے، جیسا کہ میں نے پہلے بیان کیا ہے کہ بعض لوگوں کے نزدیک ایک اَمر اچھا ہوتا ہے اور بعض مومن اسے قبیح کہتے ہیں۔‘‘ ابن تيميه، اقتضاء الصراط المستقيم لمخالفة أصحاب الجحيم : 406
×
×
  • Create New...