جناب مفہوم مخالف پر استدلال کی بنیاد رکھنے والے صاحب
کیا ہر جگہ مفہوم مخالف کے حجت ہونے پراجماع ہے؟
وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ۔الإسراء31
لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً۔آل عمران130
پہلی آیت میں ہے کہ اپنی اولاد کو فاقہ کے ڈر سےقتل نہ کرو۔
دوسری آیت میں ہے کہ دگنے پر دگنا سود نہ کھاؤ۔
کیا آپ یہاں پر اللہ تعالیٰ پر بھی الزام لگائیں گے کہ اُس نے فاقہ
کے ڈر کے علاوہ میں قتل اولاد کی اجازت دی ہے۔
کیا آپ یہاں پر اللہ تعالیٰ پر یہ الزام بھی لگائیں گے کہ اُس نے
سود کھانے کی اُس وقت تک اجازت دی ہے جب تک وہ دگنے پردگنا
نہ ہو۔
جناب مفہوم مخالف سے استدلال کو اُس کی حدود میں رکھو۔اتفاقی قید
کو احترازی قید نہ بناؤ۔